قرآن حکیم
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - حکمت والا قرآن (کہ قرآن میں حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں)۔ "حمیع علوم کا سرچشمہ قرآن حکیم ہے۔" ( ١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ٤٠٠ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قران' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے صفت 'حکیم' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٧٦ء میں "مقالات کاظمی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - حکمت والا قرآن (کہ قرآن میں حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں)۔ "حمیع علوم کا سرچشمہ قرآن حکیم ہے۔" ( ١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ٤٠٠ )
جنس: مذکر